ہنزہ نیوز اردو

”کچھ کرسکتے ہو تو کر کے دکھاؤ“

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

[author image=”http://urdu.hunzanews.com/wp-content/uploads/2015/04/11150176_852333084827693_5684341531789167618_n.jpg” ]ثناء غوری[/author]

ثناء غوری
ایک ایسا شہر جو پورے پاکستان میں ٹیکس ریونیو پیدا کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا، ایک ایسا شہر جہاں پورے پاکستان سے لوگ آکر آباد ہوتے ہیں جو دوسرے شہروں کے لوگوں کو ہمیشہ سے اپنی بانہیں کھول کر خوش آمدید کہتا رہا ہے۔ ایک ایسا شہر جس کی اہمیت اتنی ہے کہ پاکستان معرض وجود آنے پر دشمنوں کوجو سب سے زیادہ تکلیف تھی وہ یہ کہ پاکستان کے حصّے میں ایک ایسا علاقہ آگیا تھا جو براعظم ایشیا کے لیے نہایت اہم تھا یعنی صنعتی وتجارتی ترقی کے تمام تر مواقع اور وسیع تر امکانات کی حامل بندرگاہ رکھنے والا شہر، وسط ایشیا تک پھیلے اس پورے خطے میں واحد گرم پانی کا علاقہ جہاں سے سمندری جہازوں کے ذریعے تجارت کی جاسکتی ہے۔ ایک ایسا شہر جس میں پاکستان کی تمام علاقائی زبانیں ہی نہیں جنوبی ایشیا کے مختلف دیسوں کی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں اور جس کا ہر علاقہ پاکستان کے تمام شہروں میں رہنے والے لوگوں کی اپنی ثقافت کا ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ ایسا بے مثال اور کمال کا شہر سوچی سمجھی سازش کے تحت لاوارث بنا دیا گیا ہے۔
یہ شہر جو کبھی خوب صورتی اور صفائی ستھرائی کی مثال تھا، نوبت یہ آپہنچی کہ گذشتہ کئی سال سے اس کے باسیوں کے ہونٹوں پر اور آنکھوں میں یہ سوال تھے:
”یہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں آخر کب بنیں گی“
”ہماری گلیوں میں ابلتے گٹر کب ٹھیک ہوں گے“
”یہ اونچے اونچے کوڑے کے ڈھیر کب صاف ہوں گے“
”پانی کی قلت کے مسئلے سے کب نجات ملے گی“
ان سوالوں کا ایک ہی جواب تھا:
”بلدیاتی انتخابات ہونے دو، ہر مسئلہ حل ہوجائے گا“
اور پھر ان ہونٹوں پر سوال آیا:
”لو جی، شکر ہے ہوگئے بلدیاتی انتخابات، اب؟“
جواب ملا:
”بس میئر کا انتخاب ہوجانے دو، پھر سب ٹھیک“
 کراچی کے شہریوں نے بڑی امید کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دیے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل حل ہونے کا ایک یہی راستہ ہے، لیکن اب سامنے آنے والی خبریں ان کا دل دہلائے دے ر ہی ہیں، وہ سوچ رہے ہیں کہ انھیں اختیارات سے محروم بلدیاتی ادارہ اور میئر دیے گئے ہیں، اس طنز کے ساتھ کہ ”کچھ کرسکتے ہو تو کر کے دکھاؤ“
کراچی کے شہریوں کو کئی سال کی محرومی کے بعد بلدیاتی انتخابات کا تحفہ تو دیا گیا، لیکن جہاں پاکستان میں بہت سے قوانین فقط ڈمی ہی رہ جاتے ہیں اور کاغذات سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا اُسی طرح شاید میئر کا آنا بھی فقط ڈمی مئیر تک ہی رہے گا، اگر اختیارات کا معاملہ حل نہ کیا گیا۔
کئی سال تک منتخب بلدیاتی قیادت سے محروم رہنے کے باعث کراچی کے شہری مسائل میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ شہری معاملات سے متعلق اداروں کو، جن میں فراہمی آب کا محکمہ بھی شامل ہے شہرکے میئر کے زیراختیار ہونا چاہیے، لیکن لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کراچی کے میئر کو گاؤں کی پنچایت کے اختیارات دینے پر بھی تیار نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اختیارات سے محروم میئر کس حد تک شہر کے مسائل حل کرسکے گا؟
اس حوالہ سے حال ہی میں شایع ہونے والی ایک خبر  خدشات کو اور مضبوط کر رہی ہے۔ یہ خبر بتاتی ہے کہ، سندھ حکومت کی ہدایت پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کے انتخاب سے قبل ہنگامی بنیادوں پر محکموں و اثاثوں کی تقسیم کا آغاز کردیا گیا۔ آمدنی والا محکمہ لوکل ٹیکس6 ضلعی بلدیاتی اداروں میں تقسیم ہوچکا۔ تاہم صحت اور تعلیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے کوئی بلدیاتی ادارہ تیار نہیں، 12ہزار ملازمین، اسکولز، ڈسپینسریز اور کروڑوں روپے کے اثاثے بلدیاتی اداروں کے حوالے کرنے کے لیے جلد بازی میں فیصلے کیے جارہے ہیں۔
خبر کے مطابق منتخب بلدیاتی نمائندوں کی آمد سے قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی کی افسرشاہی 3 اہم محکمے صوبائی حکومت کے اشارے پر ڈسٹرکٹ میونسپل کارپورینشنز کو منتقل کررہی ہے۔ اس منتقلی کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر فنڈز میں خوردبرد، غیرقانونی پروموشن اور جعلی تقرریوں کا امکان ہے۔ خبر میں اس حوالے سے یہ تفصیل دی گئی ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمے لوکل ٹیکس، صحت اور تعلیم کا بجٹ اگلے ماہ ضلعی بلدیاتی اداروں کے حوالے کردیا جائے گا، اس حوالے سے آکٹرائے ضلع ٹیکس کا شیئر بھی بڑھ کر براہ راست 6ضلعی بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا۔ نئے فارمولے کے تحت33فیصد بلدیہ عظمیٰ کراچی اور 67 فیصد 6 ضلعی بلدیاتی اداروں کو آکٹرائے ضلع ٹیکس کا شیئر ملے گا۔ ضلعی بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز نے آمدنی والے ادارے محکمہ لوکل ٹیکس کو حاصل کرنے کے لیے گہری دل چسپی دکھائی۔ تاہم خدمت انجام دینے والے محکمے تعلیم وصحت کو لینے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا جارہا۔ ضلعی ایڈمنسٹریٹرز نے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے انضمام کے لیے کوئی خط وکتابت نہیں کی جب کہ محکمہ لوکل ٹیکس لینے کے لیے سندھ حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے اجرا کے دوسرے دن ہی سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مرکزی دفتر کے چکر لگانے شروع کردیے تھے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی کی ہدایت پر محکمہ تعلیم، صحت اور لوکل ٹیکس کے ملازمین واثاثے واجبات منتقل کیے جانے کے لیے کمیٹی کا تقرر کیا جاچکا جس کا اجلاس 4جنوری کو ہوگا، بلدیاتی ماہرین نے کہا کہ یہ اصول صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بل کہ صوبائی حکومت کو بھی چاہیے کہ صوبائی اختیارات اور آمدنی والے ادارے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سپرد کرے تاکہ عوام کی خدمت انجام دینے والی بلدیہ کو مستحکم کیا جاسکے۔ بلدیاتی امور کے ماہرین نے کہا کہ تینوں محکموں کی ڈی ایم سیز کو منتقلی میئر کراچی کی موجودگی میں ہونا چاہیے، تاکہ شفافیت قائم ہوسکے،2001میں بھی بلدیاتی محکموں اور ملازمین کی منتقلی کے دوران بڑے پیمانے پر گڑبڑ ہوئی تھی۔ اس وقت بھی جلد بازی میں فیصلے کیے جارہے ہیں، لہٰذا ان محکموں کی منتقلی کے دوران فنڈز میں خرد برد، غیرقانونی پروموشن اور جعلی تقرریاں بڑے پیمانے پر کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ صورت حال واضح طور پر کراچی سے ناانصافی اور اس شہر کا استحصال ہے اور پاکستان کے نمائندہ شہر پر ہونے والا یہ ظلم دراصل پاکستان پر ظلم ہے، جس کے خلاف ہر سیاسی جماعت کو آواز اٹھانی چاہیے، خاص طور پر ان جماعتوں کو جو اس شہر میں سیاست کر رہی ہیں اور یہاں سے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ آواز مشترکہ طور پر اٹھائی گئی تو اس میں لسانیت اور تعصب کا رنگ شامل نہیں ہوسکے گا، ورنہ ایک انتظامی اور انصاف سے متعلق مسئلہ تعصبات کے سیاہ نعروں میں اپنی نوعیت اور رنگ بدل لے گا۔
 

مزید دریافت کریں۔