ہنزہ نیوز اردو

مجھے کیـــــوں نکالا

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

[author image=”http://urdu.hunzanews.net/wp-content/uploads/2017/06/15590152_1635293576496594_4305974050698383833_n.jpg” ]کریم مایور[/author]

 

خبــر کے مطابق جنـــاب نـااہل میاں نواز شـــریف کی پــارٹی صدرات کو بحال کـــرنے کے لئے قانون میں ترمیمی بل پیش کیا گیا جسے پارلیمنٹ میں موجود حکومتی مداریوں نے بھاری اکثریت سے منظور کـــر کے دوبارہ نواز شریف کو بلامقابلہ دوبارہ پــارٹی صدر منتخب کیا گیاـ کتنی افســــوس کی بـــات ہے کہ ایک شخص کی خـــاطر قــانون میں رد وبدل کـــر کے ایک نااہل شخص کو اہل کیا جــاتا ہے اور ستم بــالا ستم اُسے جمہوریت کا نـــام دے عوام کـــو بے وقوف بنایا جــاتا ہے.. جب سے پــاکستان معرض وجود میں آیــا تب سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ صاحب اقتدار اور صاحب اختیار لوگوں نے قــانون کو اپنے گھـــر کی لونڈی بنا کـــر رکھ دیا ہے جب بھی کوئی قــانونی شیق اُن کے خلاف ہوتی ہے تو اپنی مـــفاد کی خــــاطر اُس میں ترمیم کـــر کے قــانون کی دھجیاں بکھر دی جــاتی ہےـ موروثی سیاست کسی بھی معاشرے میں ناسور کی حثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے قــابل اور اہل شخص کو موقع نہیں ملتا جس کا براہ راست نقصان غریب عوام کو ہوتــا ہے آمریت اور موروثی سیاست سے آزادی کے لیے انقلاب ضروری ہوتـا ہے ورنہ وہی ہوتــا ہے جو آج کل پاکستان میں ہو رہا ہےـ آمریت صرف کسی فوجی جنرل کا حکومت پر قابض ہونے کا نــام نہیں بلکہ کسی چور ڈاکو کا طاقت کے زور پر دھندلی کے ذریعے قــانون میں ردبدل کــر کے مُلک کا وزیر اعظم بنے کو بھی آمریت کہتے ہیں اور جمہوریت کا نام لے کــر مُلک و قوم کا خزانہ لوٹنے کا ایک نــام بھی آمریت کہلاتا ہےـ اور ستم بــالا ستم اُس ایک چور کے پیچے چوروں اور ڈاکوں کا فوج ظفر موج کا پورا قافلہ ہوتا ہےـ تــرقی یــافتہ مُلکوں میں جب کسی وزیر پر کوئی جرم ثابت ہوتی ہے تو تــاحیات وہ شخص سیاست میں قدم نہیں رکھ سکتا مگــر کیا کہنے جناب میاں نواز شــــریف کی جس کو عدالت نے واضح طور پر یہ کہہ کـــر نکال دیا کہ اب آپ صادق اور آمین نہ رہے مطلب آپ چور اور ڈاکو ہیں اس کے باوجود اخلاق اور کردار کا معیار دیکھیں کہہ رہا ہے مجھے کیوں نکالا؟

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں