ہنزہ نیوز اردو

لیفٹنٹ کرنل ڈیوڈ ۔ایل۔آر لاریمر صاحب کی تصاویر اور تصنیفات انگریز پولیٹیکل اایجنٹ گلگت ایجنسی

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

از قلم : اعجاز اللہ بیگ کیوریٹر قلعہ بلتت (ہنزہ نگر) مئی ۲۰۱۷ ء 

کرنل لاریمر صاحب 1920 to 1924گلگت ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ رہے اور جولائی 1934 سے ستمبر 1935 تک مرکزی ہنزہ میں ہنزہ ، نگر اور یاسین کی بروشو قوم کی منفرد زبان بروشسکی کی با قاعدہ تحقیق اور تحفظ کے حوالے سے اپنی اہلیہ مادام ای۔او۔لاریمر E.O.Lorimer) ( نہایت دلچسپی سے یاد گار کام کیا ۔ لاریمر صاحب نے ہنزہ علی آباد ریسٹ ہاوس میں قیام رکھا اور مقامی عقلا کی مدد اور تعاون سے تین ضخیم کتب ( بروشسکی زبان کی بروشسکی انگریزی لغت ، بروشسکی زبان کی گرائمر اور بروشسکی لوک قصے کہانیاں) تصنیف کئے۔ ہنزہ کے مقامی عقلا اور باخبر حضرات میں سے وزیر زادہ جمعدار (نائب صوبیدار) امام یار بیگ ، حاجی قدرت اللہ بیگ ، نظر اور گشپور شہزادہ یوسف از یاسین لاریمر کی اِس تحقیقی کام میں اُن کے معاون تھے۔ اِن اہم تین کتا بوں کی تصنیف کے علاوہ لاریمر صاحب اور اُن کی اہلیہ ای۔او لاریمر صاحبہ نے اُس دور میں ہنزہ علی آباد اور کریم آباد کی مقامی زمینداروں کی روز مرہ زندگی ،کام کاج ، نظام آب پاشی ، فنون ، تہوار اور ھکمران ریاست ہنزہ میر محمد نظیم خان K.C.I.E کی دربار کی کاروائی کی نہایت دلچسپ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر اور ایک یاد گارخاموش بلیک اینڈ وائٹ فلم بھی بنا کر ریکارچھوڈا ہے۔ اِن تین اہم کتب میں سے دو والیم ,I and II 1935 ء میں اوسلو ناروے میں Institute for Sammenlignede Kulturforskning (Institute for the Study of Comparative Human Culture) نے گرانٹ دے کر چھپوائے تھے۔ اور والیم III 1938 ء میں چھپا تھا ۔ اُن کی اہلیہ مادام ای۔او۔لاریمر کی تصنیفHunting in the Karakorum Language بھی ایک منفرد کتاب ہے۔
اَب سال 2015 ء میںKCS-P A نے از سر نو اِن نایاب کتب کو نارویجن سفارت خانے کی مخیر امداد سے اشاعت کروایا ہے۔ اور لاریمر صاھب اور اُن کی اہلیہ کی کھینچی ہوئی نایاب تصویر کر بھی پرنٹ کرواکر عوام الناس کے کے پیش کی ہیں۔ یہ تصاویر اور مزکورہ بالا فلم London School of Oriental and African Studies (SOAS) میں موجود تھیں۔ اِن تصاویر کو ابتدا میں Dr. Julie Flowardy امریکنAnthropologist نے 1990 – 96 کے درمیان اپنے تحقیقی کام کا حصہ بنایا تھا۔ لاریمر صاحب ایک نہایت مہنتی اور زیرک شخص تھے جِس کے ثبوت یہ کتب اور تصاویر ہیں۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد اُن کی بیوی کی وفات اور بیٹی کے اپنے شوہر کے ساتھ جنوبی افریقہ چلے جانے کے بعد اُنھوں نے انگلینڈ میں ایک تنگدست اور تنہا زندگی گزاری۔

بحوالہ : تاریخ تعمیر سنٹرل جماعت خانہ گلگت ، اشاعت فروری ۱۹۶۷ ء ، ص : ۹۲ ۔ ۹۳

مزید دریافت کریں۔