ہنزہ نیوز اردو

شہزادہ شاہ سلیم خان نے گزشتہ روز شمشال کی قراقرم ہائی وئے پھسو سے کٹ جانے پر فوراً نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزکٹیو انجینئر کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ سڑک کی بحالی کے احکامات صادر کئے

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

ہنزہ(بیورو رپورٹ) ہنزہ کے نو منتخب عوامی نمائندے شہزادہ شاہ سلیم خان نے گزشتہ روز شمشال کی قراقرم ہائی وئے پھسو سے کٹ جانے پر فوراً نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزکٹیو انجینئر کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ سڑک کی بحالی کے احکامات صادر کئے ۔ اور ضرورت کی مشینری کو متاثرہ مقام پرپہنچانے کی ہدایت صادر کئے۔ اور کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عارضی طور پر بحال کیا جائے۔
شہزادہ سلیم خان نے دیگر محکموں کو بھی ہدایت جاری کیا ہے کہ وہ شمشال کے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے۔اُنھوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع ہنزہ کو ہدایت کیا ہے کہ ادویات کی قلت کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں ۔اور ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کومتاثرہ علاقے میں جلد از جلد روانہ کریں تاکہ صحت و معالجہ کی سہویات کو وہاں یقینی بنادیں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے ضلعی انتظامیہ خاص کر ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ کو بھی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمشال کے متاثرین کو اشیائے خودو نوش بہم پہنچائے ساتھ ہی انتظامیہ کے نمائندوں کو ہائے الرٹ رہنے کی تلقین کی ہے۔
شہزادہ سلیم نے مذید کہا کہ اس مشکل کے گھڑی میں وہ شمشال کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہوں گا۔اُنھوں نے مذید کہا کہ اس آفت سے نمٹنے کے لئے فورس کمانڈر میجر جنرل ثاقب محمود ملک سے بھی بات کی ہے۔ کہ وہ شمشال کے عوام کے لئے ہیلی سروس کا جلد از جلد آغازکریں، تاکہ وہاں پھسے ہوئے اندرون و بیرون سیاح کے علاوہ طُلبہ ،مریضاور بزرگ طبقہ کو جلد ساز جلد نکال سکے اس کے علاوہ رابطہ سڑک بحال ہونے تک ہیلی سروس کے ذریعے ادویات اور خودنوش متاثرہ مقام تک پہنچایا جائیگی۔
شہزادہ سلیم خان نے مذید کہا کہ اس مسئلے پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید حافظ حفیظ الرحمٰن اور چیف سیکریٹری ڈاکٹر نیاز کاظم کو بھی مدد کی پیشکش کی ہے کہ وہ اس مشکل کے ایّام میں شمشال کے عوام کا ساتھ دیں اور حتیٰ الامکان مدد کریں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے کہا کہ وہ جلد شمشالکا دورہ کرینگے اور متاثرین کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرینگےء۔

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں