ہنزہ نیوز اردو

وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے گلگت بلتستان تمباکو کنٹرول ایکٹ2020کو قانون سازا سمبلی میں پیش کیا جسے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران نے اکثریتی رائے سے منظور کرلیا

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

گلگت(نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے گلگت بلتستان تمباکو کنٹرول ایکٹ2020کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سے پاس کر دیا۔گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے47اجلاس کے تیسرے روز گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے گلگت بلتستان تمباکو کنٹرول ایکٹ2020کو قانون سازا سمبلی میں پیش کیا جسے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران نے اکثریتی رائے سے منظور کرلیا۔ اس قانون کے مطابق سیگریٹ اور نسوار کی آزادانہ خرید و فروخت پر پابندی ہوگی۔اس قانون کے مطابق نسوار کی پلاسٹک پیکنگ پر پابندی کے ساتھ ساتھ تعلیمی و صحت کے مراکز کے اطراف میں 200میٹر تک خرید و فروخت اور 18سال سے کم عمربچوں میں خرید و فروخت پر پابندی، کوئی بھی عام دوکاندار اپنی مرضی سے سیگریٹ نسوار نہ بناپائے گا۔ دوکانوں کا تعین کرنے کے بعد سالانہ فیس کے عوض لائسنس دی جائے گی اس پرپابندی عائد ہوگی۔اس کے علاوہ تمام پبلک مقامات پر کھلے عامتمباکو نوشی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔جو افراد ان اس قانون کی خلاف ورای کرے گا ان کو تین ماہ قید اور ایک لاکگ راپے تک جرمانے ہونگے۔ گلگت بلتستان تمباکو کنٹرو ایکٹ2020کے منظوری کے بعد گلگت بلتستان کو منشیات سے پاک کرنے کے مہم کو کامیاب بنایا جائے گا۔منشیات سے پاک گلگت بلتستان مہم سماجی و فلاحی تنظیم سیڈو پچھلے ڈیڑھ سالوں سے صوبائی حکومت کے تعاون سے کام کر رہی تھی۔ گلگت بلتستان تمباکو کنٹرول ایکٹ2020 کو منظور کرنے کا مقصد نئی نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانا ہے۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

مزید دریافت کریں۔