ہنزہ نیوز اردو

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کی وباءپر نظر رکھنے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے قائم

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

گلگت ( پ ر) گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کی وباءپر نظر رکھنے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے قائم سیکریٹریز سٹئیرینگ کمیٹی کا اجلاس، ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے تمام بڑے ہسپتالوں میں 130آئیسولیشن رومزقائم کر دیے گئے، اور تینوں ریجنز میں خصوصی آئیسولیشن ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔تھور چیک پوسٹ، استک سکردو، گلگت اور سکردو ائیر پورٹس پر خصوصی اسکریننگ ڈیسک قائم ، نیشنل انسٹویٹیوٹ آف ہیلتھ  آباد سے تربیت یافتہ پیتھالوجسٹ کنسلٹنٹ اگلے دو ہفتوں میں سیمپل ٹیسیٹ کے مواد کی فراہمی کے بعد گلگت میں سیمپل ٹیسٹ لیبارٹری کا کام شروع کرے گا۔ کورونا وائرس کے پھلاﺅ کے خدشات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بشمول مدارس کو 14مارچ تک مزید بند رکھنے کا فیصلہ۔ علاوہ ازیں پولیس ٹریننگ سنٹرز ، کھیلوں کی سرگرمیاں ، فیسٹیولز، خنجراب ٹاپ،شندور ٹاپ، یتیم خانے، ووکیشنل سنٹرز، جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ اور دیگر تمام اجتماعات کو تا حکم ثانی محدود اور بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکریٹری داخلہ گلگت بلتستا ن چوہدری محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سیکریٹریز سٹئیرنگ کمیٹی برائے کورونا وائرس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ سیکریٹری صحت راجہ رشید علی نے کورونا وائرس کی بیماری سے نمٹنے کے لیے اب تک محکمے کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکریٹری صحت نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ اس وائرس کے پھیلاﺅ کے پیش نظر صوبے بھر میں 130آئیسولیشن رومز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جہاں پر تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں اور تربیت یافتہ عملہ ہائی الرٹ ہیں۔ تینوں ریجنز میں خصوصی آئیسولیشن ہسپتالوں ( محمد آباددنیور، بسین ہسپتال، ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس میں قائم آئسولیشن ونگ ، گمبہ سکردو ہسپتال، ہادی آباد چوک سکردو میں نئی تعمیر شدہ سرکاری عمارت) کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال گلگت ، سٹی ہسپتال گلگت ، سول ہسپتال کریم آباد ہنزہ، ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ، استور، خپلو، نگر ، سٹی ہسپتال کھرمنگ و دیگر تمام بڑے ہسپتالوں میں فوری طور پر آئسولیشن رومز قائم کردیے گئے ہیں ۔ جبکہ  میں 49آئسولیشن رومز کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ سیکریٹری صحت نے مزید بتایا کہ ہم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد سے مکمل رابطے میں ہیں، اب تک 22 مشتبہ افراد کے سیمپلز بھجوائے گئے تھے جن میں سے صرف ایک مریض میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے جو کہ آئسولیشن میں ہے اور مریض صحت یابی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت نے تمام اضلاع و تحصیل سطح پر ایمرجنسی آپریشن سنٹرز بھی قائم کیئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس طلب جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنےوا لے تمام زائرین اورمسافروں سے رابطے میں ہیں اور ان کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے قائم کردہ تمام چیک پوسٹس بشمول ائیر پورٹس پر قائم سکرینینگ سنٹرز میں عملہ زائرین و مسافروں سے سکریننگ کے ساتھ ساتھ ان کے کوائف بھی حاصل کر رہا ہے اور ایک مربوط ڈیٹا بیس بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی طبی شکایت پر فوری طور پر مدد فراہم کی جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام الناس کو اس وائرس سے بچاﺅ اور آگہی کے حوالے سے مختلف عوامی مقامات پر بینرز اور تشہیری مواد آویزاں کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں علماءکرام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ جمعے خطبات میں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر سے عوام کو آگاہ کریں۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو ٹی وی ، ریڈیو اور سوشل میڈیاکے زریعے معلومات و آگاہی دی جارہی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے چار سو کے قریب زائرین بلوچستان میں موجود ہیں جن کی مکمل سکریننگ کے بعد ان کو قرنطینیہ میں رکھا جا رہا ہے ۔ ان زائرین کو طبی بنیادوںپر مقررہ مدت کی تکمیل پر گھروں کو واپس بھیجا جائے گا۔ اس حوالے سے محکمہ صحت گلگت بلتستان بلوچستان انتظامیہ سے روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہیں

مزید دریافت کریں۔