ہنزہ نیوز اردو

میری لئے ہنزہ کا ہر ایک ایک فرد محترم اورمیری عزت ہے کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کی سوتلا سلوک نہیں کروں گئی: رانی عتیقہ غضنفر علی خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

ہنزہ (بیورو رپورٹ ) میری لئے ہنزہ کا ہر ایک ایک فرد محترم اورمیری عزت ہے کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کی سوتلا سلوک نہیں کروں گئی، گزشتہ دنوں مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی خبرجو مجھ سے منصوب کرکے شائع ہوا ہے یکسر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ ہنزہ پرئیمر لیگ کے اختتامی تقریب میں بحیثت مہمان خصوصی کریم آباد یوتھ آرگنازیشن نے مجھے مدعو کیا تھا اتہائی مصرفیات ترین دن ہونے کے باوجود اس تقریب میں شرکت کیا ؂کیونکہ صدر پاکستان ممنون حسین کی آمد ہنزہ تھا جس کے باوجود ہنزہ پرئمیر لیگ کے اختتامی تقریب میں شرکت کیا جبکہ ہنزہ کے مقامی ٹیموں کے درمیان فائنل کھیل تھا فائنل میں کھیلائے جانے والے ہر کھیلاڑی میرے اولادہے چاہیے وہ علی آباد کا ہو یا کریم آباد میرے اولاد ہیں ۔ ان خیالات کا ظہار رکن قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان رانی عتیقہ غضنفر علی خان نے میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں مجھ سے منصوب خبریں شائع ہوئی ہے کہ رانی عتیقہ غضنفر علی خان ہنزہ پرئمیر لیگ کے اختیامی تقریب میں تقریب چھوڑ کر بھاگ گئی اور جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی بھی نہیں دے سکی جس کا میں بھر پور الفاظ میں مذمت کرتی ہوں کیونکہ اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں میں نے اپنا تقریر مکمل کرنے کے علاوہ جیتنے والی ٹیم جو کہ علی آباد کی ٹیم تھی مبارکبادی دینے کے ساتھ اپنی ہی ہاتھوں سے ہنزہ پرئمیر لیگ کا ٹرافی بھی دے چکا ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خلاف جو بھی خبر لگی ہے وہ مکمل طور پر جھوٹی اور بے بنیاد خبر ہے جس کو ہم بھر پور الفاظ میں مذمت کرتی ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اس کو ایمانداری اورخلوص نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو اخری انجام تک پہنچانا چاہیے جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان کے ہر ایک صحافی جو اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں عزت کرتی ہوں مگر خبر سچی اور ایمانداری کے ساتھ شائع کرنا چاہیے تاکہ عوامی حلقے بھی اس جدید دنیا میں صحافت پر یقین رکھتے ہیں۔

Image may contain: one or more people, sky, tree, outdoor and nature

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں