ہنزہ نیوز اردو

محکمہء زراعت ضلع ہنزہ کی جانب سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی تقریب

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

ہنزہ ( عبدالمجید, سیما کرن) آغا خان رولر سپورٹ پروگرام کے ضلعی ایریا مینجر سائمہ نے کہا کہ ہم ہر چیز میں آرگینک کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملی کام نہیں کرتے۔ حقیقی چیزیں اور اپنی زمین سے خالص زمینی پیداوار کو ہم پیسوں کی لالچ میں فروخت کرتے ہیں مثال کے طور پہ ہم اخروٹ، گیری اور خوبانی وغیرہ بیچ کر ملاوٹ والی ڈالڈہ وغیرہ اپنے بچوں کو کھلا پلاتے ہیں۔ہمیں اپنی صحت کی اہمیت نہیں بلکہ ملاوٹ والی اشیاء کو ترجیح دے رہے ہیں جو کہ ایک افسوس ناک عمل ہے۔ محکمہء زراعت، اے کے آر ایس پی اور قراقرم ایریا ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (کاڑو) اور ایفاد یہ سب ادارے عوام الناس کی بہتر انداز میں آپکی رہنمائی کر رہی ہے ان خیالات کا اظہار محکمہء زراعت ضلع ہنزہ کی جانب سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی تقریب [dropcap][/dropcap]کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی کی انہوں نے مزید کہا کہ اپنی زمین میں جس طرح ہمارے آباؤ اجداد بہتر بیج اور اچھے نسل کے درخت لگا کر زیادہ پیداوار حاصل کرتے تھے اسی طرح کی محنت آج بھی ضروری ہے تاکہ اچھی صحت کے لیے خالص خوراک کی فراوانی ممکن ہو اپنی زمین سے پیدا ہونے والی خوراک بہتر صحت کی ضامن ہے جن خواتین نے اس تین روزہ تربیتی ورکشاپ میں جو کچھ سیکھا ہے دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں بیرون شہروں سے جو کھادیں ہم بازار سے خرید کر استعمال کرتے ہیں وہ نہایت مضر ہیں اور صحت کیلئے بے حد نقصاندہ ہیں لہذا ان کھادوں کے استعمال سے گریز کریں۔ اس موقع پر راجہ ظفر ولی نائب ناظم محکمہء زراعت ہنزہ نے کہا کہ ہمیں بہت مسرت ہو رہی ہے کہ محکمہء زراعت ہنزہ نے مرکزی ہنزہ کے چالیس سے زائد خواتین کو آرگینک فوڈ کی پیداوار میں اضافہ کرنے کیلئے ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر کیا جس میں صحت ماحول اور دیگر نقصاندہ کھادوں کے استعمال سے بچاؤ کے طریقے سیکھے ۔ ان جدید خطوط پر اپنی زمین کو صحت مند بنانے سے ہمارے اندر شگر وبائی اور دیگر امراض میں خاطر خواہ کمی ہو سکتی ہے۔ ملاوٹ والی خوراک سے ہماری صحت محفوظ ہو سکتی ہے۔ محکمہء زراعت ہنزہ کے زیرِ اہتمام تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں چالیس سے زائد خواتین نے تربیت حاصل کی جن میں اسناد بھی تقسیم کئے گئے۔

مزید دریافت کریں۔