ہنزہ نیوز اردو

سوشل میڈیا کا منفی استعمال

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

علم انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتا ہے۔ علم ہی کے ذریعے انسان  شعور و آگہی حاصل کرتا ہے۔ علم ہو اور شعور و آگہی نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟ تعلیم یافتہ آدمی شعور و آگہی کا حامل ہوگا یا پھر وہ تعلیم یافتہ کہلانے کے قابل نہیں ہوگا۔ عصر حاضر انٹرنیٹ کا دور ہے۔ سوشل میڈیا ہر مکتب فکر اور ہر عمر و جنس کے لوگوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ خال خال لوگ ہی ہوں گے جو اس کے سحر میں گرفتار نہیں ہوں گے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو عالمی گاؤں بنا ڈالا ، جس کی جیب میں انڈرائیڈ موبائل ہے گویا دنیا اس کی جیب میں ہے۔ آج سوشل میڈیا مقبول عام “مشغلہ” بن گیا ہے۔ یہ ایسی دلدل ہے جس میں اُترنے والا بس دھنستا چلا جاتا ہے۔ کیا جوان کیا پیر ، کیا مرد کیا زن ۔۔۔ دس سالہ طفل مکتب سے ستر سالہ ضعیف تک  ، امیر سے غریب تک ، جاہل سے عالم تک ، استاد سے شاگرد تک ، پسر سے پدر تک ، میاں سے بیوی تک ، ریڑھی بان سے مل مالکان تک۔۔۔۔جھونپڑی والے سے محل والے تک ۔۔ الغرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو سوشل میڈیا نے اپنے طلسم میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ ایک عجیب سی لت ہے کہ ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی” کے مصداق پیچھا نہیں چھوڑتی۔
 
سوشل میڈیا خصوصاً “فیس بک” گلگت بلتستان میں بہت مقبول ہے۔ سوشل میڈیا کے روپ میں زبردست قسم کا ہتھیار لوگوں کو میسر ہے۔ آج ہر شخص کی انٹرنیٹ تک آسان رسائی ہے اور بڑی آسانی کے ساتھ وہ علاقائی مسائل اُجاگر کر سکتا ہے۔ اپنی آواز پل بھر میں دور دور تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن حیف صد حیف کہ بجائے مثبت استعمال کرنے کے،  لوگوں نے یہاں بھی ڈنڈی ماری ہے۔ ہمارا نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ شب و روز کسی کی بے جا مدح و قدح میں اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ گالم گلوچ اور سبُّ و شُتم نوجوانوں کا وتیرہ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کا غلط اور منفی استعمال گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نوجوان نسل میں فروغ پارہا ہے اور خصوصاً ضلع دیامیر میں یہ کام خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ دیامیر میں جتنا منفی استعمال ہورہا ہے اس کا عشر عشیر بھی گلگت بلتستان کے کسی اور گوشے میں نہیں ہوتا۔ کچھ اصلی اور کچھ نقلی اکاؤنٹس شب و روز اپنی زہر آلود اور نفرت انگیز تحریروں سے ماحول آلودہ کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ “بےنامی اکاؤنٹ ” خواہ وہ بنک میں کھولا جائے یا سوشل میڈیا پر ۔۔۔۔اس کا مقصد “دو نمبری ” ہی ہوتا ہے۔ جو کام اپنے اصلی اکاؤنٹ یا نام سے نہیں کر پاتے،  نقلی اکاؤنٹ اور گمنامی کا سہارا لے کر آسانی سے کر گزرتے ہیں ۔
 
حالیہ گلگت بلتستان انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ لکھا گیا اور جو زبان استعمال کی گئی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انتخابی عمل اختتام پذیر ہوا،  جس نے جہاں پہنچنا تھا پہنچ گیا لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی ہنوز جاری ہے۔ سوشل میڈیا کے مجاہد جگہ جگہ مورچے سنبھال کر ایک دوسرے پر لفاظی گولے تاحال برسا رہے ہیں۔ یہ نازیبا حرکت اکثر کارکن کہلانے والی مخلوق سے سرزد ہو جاتی ہے۔ میں نے سوشل میڈیا کا بغور جائزہ لیا اور  اس نتیجے پر پہنچا  کہ جو گرمی گفتار و تحریر کارکنوں میں پائی جاتی ہے وہ سیاسی خانوادوں کے افراد میں نہیں پائی جاتی ۔ خدانخواستہ سیاسی لوگوں کا مزاج بھی ایسا گرم ہوتا تو نتیجہ کیا نکل آتا؟ یہ سوچ میری جان نکال دیتی ہے ۔معلوم نہیں لوگوں کی ساری ہیکڑی،  بدمعاشی اور شیخی انتخابات کے دوران کیوں اُبھر کر سامنے آجاتی ہے؟ کیوں دنیا جہاں کا سارا غم و غصہ ان لوگوں میں اُمنڈ آتا ہے؟  غالباََ اس لئے کہ بندوق چلانے کے لئے کندھا کسی اور کا میسر آجاتا ہے۔ ان پر مثل “مدعی سست گواہ چست ” صادق آتی ہے۔ ایسے لوگ نفرتوں اور رنجشوں کے سوداگر ہیں۔ علاقائی امن و امان اور تلخی حالات کے ذمہ دار ہیں۔
 
 ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور جب حد عبور کر جائے تو بری لگتی ہے۔ بس ایک وقت تھا جو بیت گیا۔ رات گئی بات گئی۔ الیکشن کا عمل پوری دنیا میں ہوتا ہے،  یہ کوئی انہونی نہیں ہے،  صرف گلگت بلتستان والے اس عمل سے نہیں گزرتے۔ آپ نے اپنے اپنے من پسند اُمیدوار کے لئے اپنے اپنے بساط کے مطابق قربانی دی ۔ آپ کا کام اسی وقت تمام ہوا جب آپ نے اپنے اُمیدوار کے انتخابی نشان پر مہر ثبت کردی ۔ اب یہ لڑنا جھگڑنا کس بات کا؟ یہ گھڑے مردے اُکھاڑنا چہ معنی دارد؟  آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟  آپ کا نصب العین کیا ہے؟  کیا سوشل میڈیا نفرت،  عداوت اور کردار کشی کی فیکٹری ہے؟  کیوں اس کا مثبت استعمال نہیں ہوتا؟  کیوں ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالی جارہی ہے؟  کیوں ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالی جاتی ہیں؟  کیوں اپنے علاقائی مسائل پر بات نہیں کی جاتی؟  کیوں مثبت تحریریں نہیں لکھی جاتیں؟ 
 
 میں خصوصاً نوجوانان ضلع دیامیر سے مخاطب ہوں کہ سوشل میڈیا کی طاقت کا درست اندازہ شاید آپ لوگوں نے نہیں لگایا ہے۔ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے لہذا آپ جو کچھ بھی رقم کریں سوچ سمجھ کر کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک پاؤ لکھنے کے لیے ایک من پڑھنا پڑتا ہے لیکن آج لوگوں نے کتب بینی کا شغل تقریباً ترک کر دیا ہے اور سوشل میڈیا نے ہر فرد کو خودساختہ ادیب اور دانشور بنا دیا ہے۔جن لوگوں کو ابھی “پڑھنا”چاہیے وہ “لکھنے” بیٹھ گئے ہیں ۔اُردو کی ٹانگیں ٹوٹتی ہیں ، ہاتھ مفلوج ہوتے ہیں ، ناک کٹتی ہے ،آنکھ پھوٹتی ہے ، گلا کٹتا ہے یا سر کچلتا ہے ، پرواہ کس کو ہے؟ بس دھڑا دھڑ جو من میں آتا ہے حوالہ سکرین کردیا جاتا ہے۔ خیر یہ الگ چپٹر ہے ، یہاں تو بڑے بڑوں کے قلم بہکتے ہیں عام آدمی کا کیا دوش؟ بس کہنا آپ سے یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ لکھیں ، احتیاط اور پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھیں۔ آپ کے لکھے ہوئے الفاظ زخموں پر نمک بھی چھڑک سکتے ہیں اور زخموں پر مرہم بھی رکھ سکتے ہیں۔ آگ لگا بھی سکتے ہیں اور بجھا بھی۔ کسی کے لبوں پر مسکراہٹوں کے کنول کھلا بھی سکتے ہیں اور آنکھوں میں اشکوں کا ریلا بہا بھی سکتے ہیں۔ دعا بھی دلا سکتے ہیں اور بددعا بھی۔ دلوں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی۔ الفاظ ہی سب کچھ ہیں۔ ان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے تیز تر ہے ـ کہا جاتا ہے ” تلوار کا گھاؤ تو مندمل ہو سکتا  ہے مگر الفاظ کا زخم ناسور بن کر رستا رہتا ہے”ـ یہ صاحب تحریر پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے الفاظ چنتا ہے؟ الفاظ کا چناؤ شخصیت و تربیت کا پتا دیتا ہے۔ پردے کے عقب میں پوشیدہ شخص کس کلاس سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی تربیت کا معیار کیا رہا ہے؟ آپ کے لکھے ہوئے الفاظ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں۔
 
انٹرنیٹ صرف فیس بک،  ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ وغیرہ کا نام نہیں ہے۔ اس میں علم و فن کا ایک جہاں آباد ہے۔ کون سی ایسی چیز ہے جو انٹر نیٹ پر دستیاب نہیں ہے؟  لیکن شومئی قسمت کہ ہمارا نوجوان نسل مذکورہ بالا لایعنی چیزوں میں اپنا انمول وقت لٹا رہا ہے۔ میری نظر میں یہ چیزیں ایک طالب علم کے لئے زہر ہلاہل سے کم نہیں ہیں۔ یہ فارغ لوگوں کے لئے مصروفیت کا ایک بہانہ تو ہو سکتا ہے لیکن ضرورت نہیں۔ طالب علم ان لایعنی چیزوں میں پڑ گیا تو سمجھ لینا چاہیے اس کا حقیقی نصب العین فوت ہو گیا۔ ایسے بیشمار طلبہ ہیں جو ان لغویات میں پڑ کر اپنا ناقابل تلافی نقصان کر بیٹھے ہیں۔ تسلیم کیا کہ یہ چیزیں وقت کی ضرورت ہیں،  ان کی اپنی ایک افادیت،  اہمیت اور مقام ہے لیکن یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہر وقت ان پر سوار ہوا جائے ۔ اول تو ان کا استعمال ترک کیا جائے اور بالفرض ترک ناممکن ہے تو کبھی کبھار ہی حاضری لگائی جائے ۔ اچھے اچھے موضوعات پر اردو اور انگریزی میں مضامین لکھے جائیں۔ اپنی علمی استعداد بڑھائی جائے ۔ افسوس ہوتا ہے جب پڑھے لکھے لوگوں کو “دو سطری” دانشوروں کی مانند دانش جھاڑتے دیکھتا ہوں ۔ پھر ایک طالب علم اور ایک سڑک چھاپ لفنگے میں تفاوت کیا رہا؟  جو زبان ایک عام خواندہ شخص استعمال کرتا ہے بعنیہ وہی زبان ایک پڑھا لکھا شخص استعمال کرے تو جگر چھلنی ہوجاتا ہے۔ خدارا،  نفرت انگیز تحریروں سے اجتناب کریں ۔ شائستگی اور شفتگی اپنائیں۔ سوشل میڈیا کا صحیح اور مناسب استعمال کریں۔ آپ کا اکاؤنٹ آپ کا آئینہ ہے،  اس میں آپ کی شخصیت کا عکس دور بیٹھا ہر شخص بآسانی دیکھ سکتا ہے۔
 
 بیشک آج دنیا ترقی کے بام عروج پر پہنچ گئی ، چاند پر قدم اور ستاروں پر کمند جیسی باتیں بھی اب قصہ پارینہ بننے لگی ہیں۔ علم و فن میں تو حضرت انسان نے بےتحاشا ترقی کر لی مگر صد حیف کہ تربیت کی کسر باقی رہ گئی۔ تربیت کے بنا محض تعلیم سے انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بنانے کی اُمید ایسی ہی ہے جیسے بنا چھتے کے شہد کی مکھیوں سے شہد کی اُمید رکھنا۔ محض تعلیم سے آدمی ایک “مشین” تو بن سکتا ہے مگر انسان نہیں۔ والدین اور اساتذہ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نہ صرف مذہبی و عصری تعلیم سے نوازیں بلکہ حقیقی معنوں میں ان کی تربیت کا بھی اہتمام کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے عصری اداروں میں خصوصاً تربیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس پر بھرپور توجہ دینا ناگزیر ہے۔

مزید دریافت کریں۔