ہنزہ نیوز اردو

حکومت اور چیف سیکریٹری ھوٹل انڈسٹری و ٹورزم انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ھوئے ھیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

گلگت:گلگت بلتستان ھوٹل ایسوسی ایشن کی کمشنر گلگت ریجن ،ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت،جنرل منیجر قراقرم کوآپریٹو بینک،ایکسئین پاور گلگت ریجن اور مختلف ھوٹل مالکان نے سولرائزیشن کے حوالے سے کمشنر آفس گلگت میں میٹنگ میں شرکت کی۔
کمشنر گلگت نے تمام ھوٹلوں میں سولر پینلز ہر صورت لگانے کا حکم نامہ صادر کرتے ھوئے کہا کہ 15 نومبر 2023 تک تمام ھوٹل مالکان اپنی ریکوائرمنٹ پروپوزل کمشنر آفس میں جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔پروپوزل جمع نہ کرانے والے متعلقہ ھوٹلوں کو جنریٹرز چلانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
صدر گلگت بلتستان ھوٹل ایسوسی ایشن راجہ ناصر نے کہا کہ سولر انرجی سے ھوٹل انڈسٹری کی بجلی کی ضروریات پوری نہیں ھو سکتیں اور انتظامیہ کی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ممکن نہیں ھے۔جنرل سیکریٹری گلگت بلتستان ھوٹل ایسوسی ایشن کوثر حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے سولر انرجی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ھوئے کہا کہ حکومت اور چیف سیکریٹری ھوٹل انڈسٹری و ٹورزم انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ھوئے ھیں ھوٹلوں کو بجلی دینے کی بجائے زبردستی قرض کے بوجھ تلے دبانے کی کوشش کی جارھی ھے۔سیاحت سے وابسطہ کاروباری افراد اور گلگت بلتستان کے ھوٹلوں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انتظامیہ کا ظالمانہ حکم نامہ قبول نہیں کیاجائیگا۔سولر سسٹم گلگت بلتستان میں ناکام پراجیکٹ ھے کیونکہ سردیوں میں صرف 4 گھنٹے دھوپ ملتی ھے۔بجلی کی پیداوار کی بجائے اربوں روپے صوبائی گرڈ سٹیشن کے قیام پر لگانے کیلئے خرچ کئے جارھے ھیں جبکہ صوبے میں بجلی دستیاب ھی نہیں۔حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن ھے۔گورنر گلگت بلتستان،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ھیں کہ گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرکے سیاحت کے شعبے کو تباہ ھونے سے بچایا جائے۔گلگت بلتستان میں غربت کے خاتمے اور سیاحت کے فروغ کیلئے امن و امان کا قیام لازمی ہے ۔گلگت بلتستان کے نجی ھوٹلوں سے لاکھوں بیروزگار افراد کا روزگار وابسطہ ھے مزید بوجھ برداشت نہیں کرینگے۔

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں