ہنزہ نیوز اردو

التت قلعہ: ہنزہ کا خاموش شاہکار

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

[author ]احمد سعید خان[/author]

دنیا کے سب سے بڑے میٹرو پولیٹن شہروں میں سے ایک میں رہتے ہوئے مجھے ہمیشہ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا دیہی طرزِ زندگی اور ان کی جغرافیائی خصوصیات حیرت زدہ کرتی ہیں۔

مقامی لوگ اپنی ثقافتی اقدار اور اپنی تاریخ کے ساتھ جو مضبوط تعلق بنائے ہوئے ہیں، وہ بات شہروں میں کہاں۔ لہٰذا اس حیران کن چیز کو قریب سے محسوس کرنے کے لیے میں نے جنت کی وادی ہنزہ کا سفر کرنے کا ارادہ کیا۔

میری فہرست میں التت قلعہ اول تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ جگہ یہاں کے لوگوں کی تاریخ کے بارے میں جاننے کے لیے بہترین ہے۔ ہنزہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کے دوران میری ملاقات مقامی گائیڈ قاسم سے ہوئی جو میرے اس سفر میں کافی مدد گار ثابت ہوا۔

قلعے کا بیرونی منظر.قلعے کا بیرونی منظر.

وادئ کے باشندے بروشو کہلاتے ہیں — یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سکندر اعظم کے لشکر میں شامل یونانی فوجیوں کی اولادیں ہیں۔ یہی خیال پاکستان اور افغانستان کے پختونوں کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے۔

التت کے قدیم شہر کے لوگوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق 47 عیسوی میں سلطنت فارس کے ترقی پذیر اور زراعت سے وابستہ ترک قبیلے ‘ہن’ سے ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ اس شہر کا پرانا نام ہنوکشال تھا جس کا مطلب ہنوں کا گاؤں ہے۔ ان کے مخلوط نسب کے بارے میں جاننے کے بعد مجھے یہاں کے مقامی لوگوں کی واضح خصوصیات کو دیکھ کر حیرانگی نہیں ہوتی۔

قلعے سے ہنزہ شہر کا منظر. چھتوں پر آڑو خشک ہونے کے لیے رکھے گئے ہیں جو پھلوں کو تادیر محفوظ کرنے کا روایتی طریقہ ہے.قلعے سے ہنزہ شہر کا منظر. چھتوں پر آڑو خشک ہونے کے لیے رکھے گئے ہیں جو پھلوں کو تادیر محفوظ کرنے کا روایتی طریقہ ہے.

شاندار التت قلعہ ہنزہ کے میروں (شاہی خاندان) نے تعمیر کروایا تھا تاکہ نگر کے میروں (جڑواں ریاست) کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔ یہ قلعہ 11 ہویں صدی سے اب تک قراقرم کے آگے آب و تاب سے کھڑا ہے۔

یہ قلعہ نہ صرف کئی حملہ آوروں کے حملوں میں ثابت قدم رہا ہے، بلکہ تعمیر کے بعد آنے والے زلزلوں میں بھی اپنا وجود باقی رکھتا آیا ہے جو کہ اسے اپنے دور کی حیرت انگیز اور فن تعمیر کی شاہکار تعمیرات میں سے ایک بناتا ہے۔

قلعے کا اندرونی منظر. دروازے جان بوجھ کر صرف 5 فٹ اونچے بنائے گئے تھے تاکہ حملہ آور فوجیوں کو جھک کر اندر داخل ہونا پڑے، تاکہ دفاعی سپاہی آسانی سے ان کا سر قلم کر سکیں.قلعے کا اندرونی منظر. دروازے جان بوجھ کر صرف 5 فٹ اونچے بنائے گئے تھے تاکہ حملہ آور فوجیوں کو جھک کر اندر داخل ہونا پڑے، تاکہ دفاعی سپاہی آسانی سے ان کا سر قلم کر سکیں.

ایک اونچی پہاڑی پر بنی اس عظیم الجثہ عمارت کے فن تعمیر کے شاہکار اور اس کو مکمل کرنے میں لگی محنت اور جفاکشی کو دیکھ کر حیران تھا۔ اس دور کی ٹیکنالوجی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس جوکھم بھرے کام کو 11 ہویں صدی میں تصور کرنا بھی میری سوچ سے باہر ہے۔ 

اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ کا ثبوت پیش کرتی اپنے دور کی اس مضبوط ترین قلعہ بند عمارت کو ہنزہ شہر کی جائے پیدائش اور دارالخلافہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ منفرد عمارت دریائے ہنزہ سے 1000 فٹ کی بلندی پر ہے اور اس کا واحد برج ‘شکاری برج’ کہلاتا ہے، جسے خصوصاً دورانِ جنگ پورے علاقے کی نگرانی کرنے کے لیے تعمیر کروایا گیا تھا۔ وادیء ہنزہ کو ہمیشہ سے کائیون رس (روس) اور چین کی فوجوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ رہتا تھا۔

ٹاور کے اوپر کھڑے ہو کر مجھے احساس ہوا کہ اس ٹاور کی پوزیشن کتنی اہمیت کی حامل تھی۔ اتنی اونچائی سے ارد گرد میں موجود تمام پہاڑوں، چشموں، جنگلوں اور نہروں کی آسانی سے نگرانی کی جاسکتی تھی، جس سے التت شہر کو اپنے دفاع کے لیے مناسب تیاری کا وقت مل سکتا تھا۔ 

قلعے کے مینار سے باہر کا منظر. لکڑی کے دیدہ زیب کام کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں.قلعے کے مینار سے باہر کا منظر. لکڑی کے دیدہ زیب کام کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں.

ایک مقامی باشندے سے بات چیت کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ٹاور کا استعمال صرف نگرانی کے لیے ہی نہیں بلکہ سزائے موت کے قیدیوں کو وہاں سے پھینکنے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔

یہ قلعہ تعمیر کے 400 سال بعد متنازع ہوا۔ 1540 کی دہائی کے آخر میں ہنزہ کے شاہی خاندان کے دو بھائیوں پرنس شاہ عباس عرف شابوس اور پرنس علی خان میں جنم لینے والے تنازعے کے نتیجے میں ‘بلتت’ قلعہ تعمیر کیا گیا جو جلد ہی ہنزہ کا نیا دارالخلافہ قرار پایا۔

چھوٹے بھائی پرنس علی خان نے التت قلعے کو اپنے بڑے بھائی کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ شابوس نے علی کو برج کے اندر موجود ستون کے آگے زندہ دفنا دیا تھا۔ 

پرنس علی خان کی ایستادہ قبر.پرنس علی خان کی ایستادہ قبر.

1891 میں برطانوی فوج روس کے کسی بھی قسم کے سیاسی دخل کو ختم کرنے کے لیے التت کی گلیوں تک آ پہنچی۔ برطانیہ کے قبضے کے اصول کے تحت ہنزہ کی باگ ڈور سابق چیف کے سوتیلے بھائی کے ہاتھوں میں ہی رہی، جس پر انگریزوں کو اعتماد تھا۔ 

تقسیم ہند کے بعد بھی ہنزہ ایک شاہی ریاست تھی لیکن یہ سلسلہ صرف 1972 تک چلا، جس کے بعد سماجی اور سیاسی اصلاحات نے شاہی خاندان سے اختیارات واپس لے لیے۔ التت قلعہ بعد میں آغا خان فاؤنڈیشن کو بطور تحفہ دے دیا گیا۔ ان کے ثقافتی محکمے نے قلعے کی بحالی کے لیے قابل تعریف کام کیا ہے جو کہ 2007 سے سیاحی میوزیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ابتدائی دنوں میں یہ قلعہ شہر کی آبادی اور تاجروں سے گھرا ہوا تھا جو پوری دنیا سے اپنے ساتھ مال لاتے تھے اور قدیم شاہراہ ریشم کے روٹ کو استعمال کرتے ہوئے چین سے یہاں سے داخل ہوا کرتے تھے۔ جلد ہی یہ خطے کا ثقافتی مرکز بن گیا۔

التت قلعے کے شکاری مینار پر چڑھ کر نیچے دیکھنے اور قلعے کے اندر داخل ہو کر گھومنے پر مجھے قدیم طرزِ زندگی کے آثار اب بھی باقی نظر آئے۔ 

شاہی خاندان کے زیرِ استعمال برتن.شاہی خاندان کے زیرِ استعمال برتن.

میں جیسے ہی اندر داخل ہوا تو مجھے وہاں نمائشی طور پر رکھے شاہی خاندان کے استعمال شدہ برتنوں کو دیکھ کر بہت فرحت محسوس ہوئی ۔

دروازوں، کھڑکیوں اور سیڑھیوں پر بڑی مہارت کے ساتھ لکڑی کا کام کر کے بالکل اسی حالت میں بحال کیا گیا ہے، البتہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ خاموشی سے اپنی آپ بیتی سنا رہی ہوں۔

— تصاویر بشکریہ لکھاری

 

ڈان نیوز


مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں