ہنزہ نیوز اردو

اقتصادی راہداری منصوبہ،آئینی حقوق اور دیگر اہم ایشوزپر صوبائی حکومت نے عوام سے جھوٹ بولا اور حقائق چھپائے رکھا

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

گلگت  فروری8 ہنزہ نیوز(ارسلان علی /خبرنگارخصوصی) تحریک انصاف گلگت بلتستان کے ڈپٹی آرگنائزر فتح اللہ ،ضلع گلگت کے آرگنائزرگلاب شاہ آصف،آرگنائزر ہنزہ عزیزاحمد و دیگر نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ،آئینی حقوق اور دیگر اہم ایشوزپر صوبائی حکومت نے عوام سے جھوٹ بولا اور حقائق چھپائے رکھا جبکہ حکومت میں آئے مسلم لیگ(ن) کو 280دن ہو چکے مگر ان کی کارکردگی صفر ہے اور عوام کو بدترین لوڈشیدنگ،بیڈ گورننس اور اقربا پروری کا تحفہ ملا ۔ہفتہ کے روز گلگت پریس کلب کے سامنے وفاقی حکومت کی طرف سے قومی اداروں کی نجکاری اوربین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں خاطر خواہ کمی نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا جس میں درجنوں پارٹی ورکروں نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے جن پر نجکاری کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پاکستان کے اداروں کو برائے فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے اگر اس عمل کو نہیں روکا گیا تو ملک تباہ ہو جائے گا۔انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے دوران پانچواں صوبہ بنانے کا اعلان کیا مگر اب وہ اپنے وعدے سے مکر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سو دنوں میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایم آر آئی مشین لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے بھی وعدے کئے گئے تھے مگر سب وعدے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کو حصہ نہیں ملا تو یہ ہمارا معاشی قتل کے مترادف ہوگا مگر ہمارے حکمرانوں نے اس معاملے پر بار بار عوام سے جھوٹ بولاجبکہ آئینی حقوق کے معاملے پر بھی عوام سے دھوکہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنایا جائے ہم میں اور کشمیریوں میں فرق ہے کیانکہ کشمیری آزادی کی بات کرتے ہیں جبکہ ہم نے آزادی حاصل کرنے کے بعد خوشی سے پاکستان سے الحاق کیا ہے اور ہم ملک کے آزاد شہری ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے کپتان اور وزراء میں ہم آہنگی نہیں ہے وزراء اور اراکین اسمبلی اسلام آباد میں ڈھیرے دالے بیٹھے ہیں مگر کپتان اکیلا گلگت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر پلاننگ کمیشن احسن اقبال ہمارے وزراء اور اراکین اسمبلی کو وقت نہیں دے رہا اور ہمارے اراکین ذلیل ہو رہے ہیں ہم وزراء اور تمام اراکین اسمبلی سے کہتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کی مذید تذلیل نہ کریں اورآپس عوام میں آجائیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں 80فی صد بیوروکریسی پنجاب سے ہیں مگر ہمارے مقامی ملازمین کو کسی اور صوبے میں تعینات نہیں کیا جا رہا اور مقامی ملازمین کی پروموشنز بھی نہیں ہو رہی۔انصاف کا تقاضاہے کہ جتنے آفیسر ملک کے دیگر صوبوں سے آتے ہیں اتنے ہی آفیسرز گلگت بلتستان سے بھی ملک کے دیگر صوبوں میں بھیجے جائیں۔  

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں