ہنزہ نیوز اردو

اتھارٹی ملک میں کوالٹی کلچر کے فروغ کے لئے کوشاں ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔

[author image=”http://urdu.hunzanews.net/wp-content/uploads/2017/09/PIC-321.jpg” ]إجلال[/author]

اتھارٹی ملک میں کوالٹی کلچر کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ خوردنی تیل و گھی کی صنعت میں بہتری کی گنجائش ہے ۔ غیر معیاری چیزوں کی حوصلہ شکنی کے لئے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اپنی سفارشات جلد ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرونگا تاکہ گلگت بلتستان میں پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور کراچی یونیورسٹی کے پی۔ایچ۔ڈی کے طالبعلم اجلال حسین نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتائی۔انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان معیارات کے حوالے سے اس مقام پر نہیں پہنچا ہے جہاں دیگر ترقی پذیر ممالک پہنچ چکے ہیں۔ جو اسٹینڈرڈ دیگر ممالک میں ہے وہ ہمارے ہاں بھی ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جس سے ملک میں کوالٹی کنٹرول کلچر کو فروغ حاصل ہو۔ ادارہ ملک میں کوالٹی انفرا سٹرکچر کی بنیادیں مضبوط کرنے کے اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔اتھارٹی کی کوششوں سے اب معیار کے بارے میں لوگوں کا شعور بڑھ رہا ہے ۔ جب ملک کے ہر حصے میں کوالٹی کلچر فروغ پائے گا تو ترقی یافتہ ممالک کے صف میں شامل ہو جائے گا۔
ہمارے ملک کے اندر پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی سرگرمیوں کے بعد بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اوراس کی ایک بڑی مثال وہ بڑے بڑے سپر اسٹورز اور سپر مارکیٹ ہیں جہاں آپ کو معیاری کھانے پینے کی اشیاء ملتی ہیں۔آپ کو وہ کم قیمت پر معیاری اشیاء مل جاتی ہیں ان اسٹورز نے ہمارے اسٹینڈرڈ کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔جن چیزوں پر اتھارٹی کا لوگو(PS)ہوتا ہے وہ آپ اطمینان سے خرید کر استعمال کر سکتے ہیں۔معیارات کی فضاء کو مزید بہتر بنانے کے لئے (PSQCA) نے تمام مینوفیکچررز اور سپلائرز کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے آئٹمز کے لیبلز پر ہر چیز کی وضاحت کریں تاکہ صارفین با خبر ہو کر انتخاب کریں اور یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ تمام تفصیل لیبل پر پرنٹڈ ہو۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب خریداری کرتے ہوئے معیار کو مد نظر رکھتی ہے اور (PS) کا لوگو دیکھتی ہے۔اس وقت پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے پاس ((Food/Non Food Compulsary Item 108موجود ہیں ۔ ان میں خوردنی تیل و گھی، جوسسز، پانی و دیگر فوڈ آئٹمز شامل ہیں۔ڈیپارٹمنٹ سال میں چار دفعہ بڑی کمپنیز کا معائنہ کرتی ہے اور سیمپلز سیل کر کے چیکنگ کے لئے پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی لیبارٹری بھیجا جاتا ہے۔ ٹسٹ رپورٹ آنے کے بعد اگر رزلٹ پاس ہے تو پھر کمپنی یا یونٹ تمام کاغذات کی تصدیق کے اپلائی کرتا ہے اس کی نگرانی ڈائریکٹر صاحبان کرتے ہیں اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو رپورٹ کرتے ہیں اس کے بعد کام شروع کرنے کے لئے ڈی ۔جی کی طرف سے لائسنس جاری ہوتا ہے۔
ملک میں مہنگائی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اسی رفتار سے ایک عام آدمی کا معیار زندگی گھٹ رہا ہے۔ اشیاء صرف میں ایک اہم چیز خوردنی تیل و گھی ہے جس کا صحت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ معیاری خوردنی تیل کا استعمال صحت کے لئے جتناضروری ہے اتنا ہی ایک غریب آدمی کی پہنچ سے دور بھی ہے۔ کھلا تیل اور گھی گلے کی بیماریوں اور اندورنی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ استعمال شدہ اور زنگ آلود پیکنگ کو بلیک پلیٹ کہتے ہیں مگر غیر معیاری گھی اور تیل بنانے والے اس کو ٹن کہتے ہیں مگر ٹن کی کوٹنگ نہیں ہوتی اور یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ فیکٹری میں آنے اور جانے والے مٹیریل کی پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جانچ کی جاتی ہے اور تمام مصنوعاتPSQCA سے تصدیق شدہ ہوتی ہیں۔ خوردنی تیل و گھی کی صنعت میں ابھی بہتری کی بہت گنجائش ہے ہم اسے امپورٹس میں بھی چیک کر رہے ہیں اور مارکیٹ میں بھی چیک کر رہے ہیں جس سے بہت فرق پڑ رہا ہے۔ایڈیبل آئل(Edible Oil) کے معیار کے سلسلے میں ہم نے بہت کا م کیا ہے، مارکیٹوں اور بڑی کمپنیوں میں کئی ریڈز/ چھاپے مارے ہیں اور غیر معیاری خوردنی تیل پکڑا ہے۔ کھلے خوردنی تیل کی حوصلہ شکنی کی اور عوام میں شعور بیدار کیا کہ وہ معیاری خوردنی تیل ہی خریدیں کیونکہ اس کا آپ کی صحت سے براہ راست تعلق ہے۔ غیر معیاری تیل کھانے سے نہ صرف آپ کے پیسے ضائع ہونگے بلکہ صحت بھی برباد ہوگی۔
عوام کو معیاری خوردنی تیل اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہم نے مختلف جمعہ بازاروں اور بڑی مارکیٹوں کا اچانک دورہ کر کے وہاں کے نمونے چیک کئے ہیں اور غیر معیاری تیل کی خرید و فروخت روک دیتے ہیں اور اس کے مینو فیکچرر کو نوٹس بھی جاری کرتے ہیں۔غیر معیاری تیل اور دوسرے فوڈ آئٹمز کی مینو فیکچرنگ اور سپلائی اب بھی ہوتی ہے لیکن ہم اسے روکنے کے لئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، اگر لوگ ہمارا ساتھ دیں اور معیار کی بات کو سمجھیں تو غیر معیاری کلچر کو شکست دینا مشکل نہیں ۔ اتھارٹی کا لوگو (PS)مارک ہر فوڈ آئٹم پر موجود ہوتا ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی(PSQCA) گلگت بلتستان میں موجود نہیں ۔ یہ وفاقی گورنمنٹ کا ادارہ ہے اور پورے پاکستان میں موجود ہے۔ ہمارے یہاں گلگت بلتستان میں غیر معیاری کھانے کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ میں نے یہاں دیکھا ہے خوردنی تیل و گھی کے مختلف کمپنیز کے غیر معیاری ہیں اسی طرح منرل واٹر کی تین مختلف یونٹس یہاں پانی فروخت کر رہی ہیں مگر ان کی تصدیق ہمارے اتھارٹی سے نہیں ہے اور وہ معیار بھی نہیں جو پاکستان کے مختلف پانی کی کمپنیز میں ہیں اور انہوں نے اپنی بوتل پر PSکا لوگو بھی لگایا جو کہ قانوناً جرم ہے۔واحد ہمارا ادارہ PSQCAہے جو پاکستان میں Govt. Act-VI of 1996 کے مطابق سرٹیفیکیشن اور لائسنس جاری کرتا ہے۔
ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے اور ہمارے علاقے کے عوام کی صحت کی بہتری کے لئے میں نے یہاں سفارشات بنا کر جلد ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو پیش کرونگا تاکہ ہمارے علاقے میں جلد اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور اس سلسلے میں جلد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے مل کر گزارش کرونگا کہ وہ جلد اس ادارے کے گلگت بلتستان میں قیام کو عمل میں لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید دریافت کریں۔

مضامین

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں